خوابوں سے بیداری تک

مسلمانوں کا وہ سنہرا دور جو کبھی دنیا کے افق پر روشن تھا، آج گویا تاریخ کے اوراق میں ایک یاد بن کر رہ گیا ہے۔ اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُس عظمت کے قصے بھی دھیرے دھیرے لوگوں کے حافظوں سے مٹتے جا رہے ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ پوری دنیا مسلمانوں کے خلاف صف آرا دکھائی دیتی ہے۔ جسے دیکھو، وہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف بولنے کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔ چاہے فلمی دنیا ہو یا میڈیا کے ایوان، ہر طرف ایک ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جس میں مسلمانوں کو مشکوک، کمزور اور پسماندہ ثابت کرنا گویا ایک منظم مہم بن چکا ہے۔

اب حال یہ ہے کہ کوئی ایسا شخص بھی، جسے گفتگو کی تمیز نہ ہو اور جس کا اپنا کردار اور ماضی داغدار ہو، اگر مسلمانوں کے خلاف دو لفظ بول دے تو نہ صرف اسے داد دی جاتی ہے بلکہ اس کی اس جسارت پر انعام و اکرام بھی نچھاور کیے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تنہا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے ایک باقاعدہ ذہن، ایک منصوبہ، ایک پس منظر اور ایک ایسا منظم نظام موجود ہوتا ہے جو دن رات یہی منصوبہ بناتا رہتا ہے کہ مسلمانوں اور ان کے مذہب کو کس طرح بدنام کیا جائے، ان کے خلاف نفرت کو عام کیا جائے، اور پھر اسی نفرت کی بنیاد پر ان پر ہونے والے ظلم، زیادتی اور ناانصافی کو جائز قرار دیا جائے۔

ایک وقت تھا جب مسلمان اپنی دیانت، علم، کردار، شجاعت اور انسانیت نوازی کی وجہ سے دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ مگر آج صورتِ حال یہ ہے کہ بعض اوقات مسلمان ہونا ہی ایک جرم کی طرح محسوس ہونے لگا ہے۔ یہ حقیقت دل کو زخمی کرتی ہے، مگر اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہم نے خود بھی اپنے زوال کے اسباب کو سنجیدگی سے سمجھنے اور بدلنے کی کوشش کم کر دی ہے۔

یہ بات درست ہے کہ پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اللہ والوں، نیک بندوں، سچے مصلحوں اور کردار کے غازیوں کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا؟ کیا اب نیکی، تقویٰ، اخلاص، کردار، علم اور اصلاحِ نفس کی وہ روشنی بھی باقی نہیں رہی جو انسانوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی تھی؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے ولی، بزرگی اور روحانیت کے مفہوم کو بھی صرف قصوں، حکایتوں اور کراماتی روایات تک محدود کر دیا ہے۔ ہم نے سمجھ لیا ہے کہ ولی وہی ہے جس کے گرد غیر معمولی واقعات کے افسانے بیان کیے جائیں، حالانکہ اصل حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور عملی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ قوموں کی تقدیر خوابوں، قصوں اور محض کرامات کے انتظار سے نہیں بدلا کرتی۔ نہ کوئی آسمانی منظر اچانک زمین پر اترتا ہے، نہ کوئی معجزہ خود بخود قوموں کی حالت بدل دیتا ہے۔ دنیا میں عزت، قوت، وقار اور غلبہ ہمیشہ محنت، لگن، علم، بصیرت، اخلاق، اتحاد، حوصلے اور مثبت عمل سے حاصل ہوتا ہے۔ ولی بننے کا راستہ بھی یہی ہے۔ ولی وہ نہیں جو صرف کتابوں کے اوراق میں کرامتوں کے ساتھ زندہ ہو، بلکہ ولی وہ ہے جو اپنی خواہشات پر قابو پائے، اپنے نفس کی اصلاح کرے، اپنے اخلاق کو سنوارے، علم و عمل میں بلند ہو، اور خاموشی کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے انسانوں کے لیے خیر اور بھلائی کا سبب بن جائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top