وقت کی اہمیت کا احساس مجھے آج اس شدت سے ہوا کہ شاید زندگی میں کبھی میرے ضمیر نے اس طرح دستک نہ دی ہو۔
ایک قریبی رشتہ دار اچانک سامنے سے آتے دکھائی دیے۔ میں بے اختیار اُن کی طرف لپکا اور نہایت گرمجوشی سے اُن سے باتیں کرنے لگا۔ شاید وہ اچانک اس ملاقات پر کچھ متکلف محسوس کر رہے تھے، لیکن میں نے اُن کے تاثرات پر توجہ نہ دی۔ میں مسلسل گفتگو کرتا رہا، حالانکہ اُن کے چہرے سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ زیادہ دیر رکنے کے خواہش مند نہیں۔
وقت کی اہمیت اور میانہ روی کا حقیقی مفہوم
بعد میں سوچا تو احساس ہوا کہ میرے اس رویے کے پیچھے ایک نفسیاتی وجہ تھی۔ شاید میں اپنے خلوص، محبت اور حسنِ اخلاق کا غیر معمولی اظہار کرنا چاہتا تھا۔ مگر میں یہ بھول گیا تھا کہ ہر شخص کی اپنی مصروفیات، اپنی کیفیت اور اپنا مزاج ہوتا ہے۔
چند ہی لمحے گزرے تھے کہ انہوں نے نہایت شائستگی سے کہا:
“اچھا، اب اجازت دیجیے، مجھے ذرا جانا ہے۔”
یہ الفاظ سن کر میں ایک لمحے کے لیے خاموش رہ گیا۔ اگرچہ میں نے بھی بظاہر یہی ظاہر کیا کہ مجھے بھی بہت جلدی ہے، لیکن حقیقت یہ تھی کہ اُن کے چند جملوں نے میرے اندر ایک طویل خود احتسابی کا دروازہ کھول دیا تھا۔
ہم دونوں مخالف سمتوں کے مسافر تھے۔ وہ جنوب کی طرف روانہ ہوئے اور میں شمال کی طرف۔ مگر اُن کے جانے کے بعد میرا ضمیر مسلسل مجھ سے سوال کرتا رہا۔
میں نے خود سے کہا:
“دیکھا! اسے کہتے ہیں وقت کی قدر۔ صرف اپنے وقت کی نہیں بلکہ اپنی شخصیت، اپنے وقار اور دوسروں کے وقت کی بھی قدر۔ اور ایک تم ہو کہ ہر ایک کے سامنے اس طرح بچھ جاتے ہو جیسے تیز ہوا میں نرم گھاس۔”
اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ انسان کو کسی بھی خوبی میں حد سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ محبت ہو، خلوص ہو، شائستگی ہو یا خوش اخلاقی، جب یہ اعتدال سے تجاوز کر جائیں تو اپنی تاثیر کھو بیٹھتے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ میٹھا بھی ناگوار ہو جاتا ہے اور حد سے زیادہ اپنائیت بھی بعض اوقات بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔
اسلام نے بھی ہر معاملے میں میانہ روی کی تعلیم دی ہے۔ عبادت ہو یا دنیاوی معاملات، گفتگو ہو یا میل جول، ہر چیز میں اعتدال ہی حسن پیدا کرتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے بھی ہمیشہ سہولت، توازن اور اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے۔
ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم حد سے زیادہ خوش اخلاقی دکھائیں گے، ہر وقت دوسروں کے لیے دستیاب رہیں گے اور مسلسل گفتگو کرتے رہیں گے تو لوگ ہمیں بہت پسند کریں گے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔ بعض لوگ ایسی بے جا اپنائیت کو کمزوری سمجھ لیتے ہیں اور انسان کی شخصیت کا وقار متاثر ہونے لگتا ہے۔
مجھے اپنا ایک پرانا دوست یاد آتا ہے۔ تقریباً ہر روز فون پر ہماری طویل گفتگو ہوا کرتی تھی۔ مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال ہوتا اور وقت کا احساس ہی نہ رہتا۔ کبھی وہ میرے گھر آ جاتا اور کبھی میں اُس کے ہاں چلا جاتا۔
لیکن ایک بات ہمیشہ مجھے حیران کرتی تھی۔ رات کا کھانا ہم سب مل کر کھاتے، کچھ دیر باتیں ہوتیں، پھر وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں جا کر آرام کرنے لگتا۔ شروع میں مجھے یہ طرزِ عمل عجیب محسوس ہوا۔ میں سوچتا تھا کہ جس شخص سے روزانہ گھنٹوں فون پر بات ہوتی ہے، آمنے سامنے بیٹھ کر تو اور بھی زیادہ گفتگو ہونی چاہیے۔
بعد میں سمجھ آیا کہ ہر تعلق کی اپنی ایک فطری حد ہوتی ہے۔ ہر لمحہ گفتگو ضروری نہیں ہوتی۔ خاموشی بھی تعلق کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔ بعض اوقات چند لمحوں کی خاموش رفاقت، گھنٹوں کی بے مقصد گفتگو سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔
صبح کی سیر کے دوران بھی مجھے زندگی کے مختلف رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بہت سے لوگ جان بوجھ کر نظریں چرا لیتے ہیں۔ پہلے مجھے یہ رویہ عجیب لگتا تھا، لیکن اب سمجھ آتا ہے کہ شاید وہ ایک غیر ضروری سلسلۂ گفتگو سے بچنا چاہتے ہیں۔ ایک دن کا سلام، پھر روز کی گفتگو، پھر رسمی ملاقاتیں… اور یوں وقت آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے ضائع ہونے لگتا ہے۔
اسی سیر کے دوران ایک نہایت سنجیدہ، باوقار اور سفید ریش بزرگ اکثر ہاتھ میں ٹافیوں کا ایک تھیلا لیے دکھائی دیتے تھے۔ وہ ہر آنے جانے والے کو محبت سے ٹافی پیش کرتے، خصوصاً بچوں کو۔ بچے نہ ملتے تو بڑوں ہی کو پیش کر دیتے۔ لوگ اُن کی دریا دلی کی تعریف بھی کرتے اور بعض اوقات حیرت سے سوال بھی پوچھتے۔
پھر اچانک ایک دن وہ سلسلہ بند ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ شاید انہوں نے محسوس کر لیا ہوگا کہ ہر اچھی چیز اسی وقت تک خوبصورت رہتی ہے جب تک وہ ضرورت، موقع اور اعتدال کے مطابق ہو۔
وقت زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے، اور اس کی حفاظت صرف گھڑی کی سوئیوں کو دیکھنے سے نہیں ہوتی بلکہ اپنے رویّوں کو متوازن رکھنے سے بھی ہوتی ہے۔ ہر ملاقات کو طویل کرنا ضروری نہیں، ہر خاموشی کو گفتگو میں بدل دینا دانشمندی نہیں، اور ہر تعلق میں ضرورت سے زیادہ قربت پیدا کرنا محبت کی علامت نہیں ہوتا۔
اصل دانائی یہ ہے کہ انسان جان لے کہاں رکنا ہے، کب بولنا ہے، کب خاموش رہنا ہے، اور کب دوسروں کو ان کے وقت، سکون اور نجی دائرے کے ساتھ تنہا چھوڑ دینا ہے۔ یہی میانہ روی انسان کی شخصیت کو وقار عطا کرتی ہے، تعلقات کو دیرپا بناتی ہے اور وقت کو بامقصد بنا دیتی ہے۔
آج میں نے اپنی زندگی سے یہی سبق سیکھا ہے کہ انسان جتنا بے موقع بول کر اپنی قدر کھوتا ہے، اتنا خاموش رہ کر کبھی نہیں کھوتا۔ خاموشی کمزوری نہیں بلکہ شعور کی علامت ہے، اور اعتدال صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک کامیاب، باوقار اور پُرسکون زندگی کا بنیادی اصول ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں وقت کی قدر کرنے، دوسروں کے وقت کا احترام کرنے اور زندگی کے ہر معاملے میں میانہ روی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
زندگی نے مجھے یہ سکھایا کہ انسان کو ہر وقت یہ دیکھنا چاہیے کہ سامنے والا گفتگو کرنا بھی چاہتا ہے یا نہیں، اُس کے پاس وقت ہے یا نہیں، اُس کا مزاج کیا ہے، اور کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری موجودگی اُس پر بوجھ بن رہی ہو۔ حسنِ اخلاق کا تقاضا صرف بات کرنا نہیں بلکہ وقت پر خاموش ہو جانا بھی ہے۔
آج جب میں ماضی پر نظر ڈالتا ہوں تو دل سے ایک ہی آواز اٹھتی ہے کہ اگر میں نے وقت کی قدر، خاموشی کی حکمت اور میانہ روی کا سبق پہلے سیکھ لیا ہوتا تو شاید آج میری زندگی کچھ اور ہوتی۔ شاید میرے سر پر کامیابی کا تاج ہوتا، لوگوں کی نگاہوں میں میرا وقار اور بھی بلند ہوتا۔
میں نے اپنی زندگی میں ایک حقیقت کو بارہا آزمایا ہے کہ انسان جتنا بے موقع بول کر اپنی قدر کھوتا ہے، اتنا خاموش رہ کر کبھی نہیں کھوتا۔