بارش کا وہ موسم اور غریب کی بے بسی

ایک وقت تھا… بارش کا وہ موسم اور غریب کی بے بسی
اب نہ وہ دور رہا، نہ وہ کچی جھونپڑیاں رہیں، نہ وہ برسات، اور نہ ہی وہ لوگ رہے۔ مگر یادوں کے دریچے پر دستک دیتی بارش آج بھی اُن بے بس چہروں کی تصویر آنکھوں کے سامنے لے آتی ہے۔ وہ وقت جب بارش کسی کے لیے رحمت ہوتی تھی، مگر کسی کے لیے ایک نئی آزمائش۔

بارش کا وہ موسم

غریب کی جھونپڑی،
پھونس کا چھپر،
مٹی کی دیواریں،
ٹپکتا ہوا پانی،
گیلے بستر،
بھیگے ہوئے کپڑے،
اور خالی برتن…

دور افق پر ٹکی ہوئی بوجھل نگاہیں،
چہرے کی جھریوں میں چھپی زندگی کی خاموش کہانی۔

دور کہیں بیٹھی کوئل کی میٹھی آواز،
اور چاروں طرف صرف پانی ہی پانی۔

ایک بے چینی…
ایک اُلجھن…
ایک غریب کی پریشانی۔

مٹی کی ہانڈی بالکل خالی،
اس میں کچھ بھی نہیں۔

ایک گہری سانس…
ایک فکر…

بھوک سے نڈھال بچے،
بلکتے ہوئے بچے۔

کچھ نہیں…

سو جائیں گے…
روتے روتے۔

تھوڑا سا اناج،
وہ بھیگی ہوئی لکڑیاں،
اُٹھتا ہوا دھواں،
جلتی ہوئی آنکھیں…

کچھ نہیں…
صرف دھواں ہی دھواں…

اور پھر…
سو گئے بچے۔

بارش تھم گئی…
مگر اُس گھر کی بھوک نہ تھمی۔

بارش کا وہ موسم اور غریب کی بے بسی

صبح ہوئی…
مگر چولہا پھر بھی نہ جلا۔

شاید غربت کا سب سے بڑا دکھ یہ نہیں کہ گھر میں کچھ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہے کہ بچوں کو بھوک کے ساتھ سونا سکھانا پڑتا ہے۔

بارش کا موسم سب کے لیے ایک جیسا نہیں ہوتا؛ کسی کے لیے یہ خوشی کی بوندیں لاتا ہے، اور کسی کے لیے آنکھوں میں نمی چھوڑ جاتا ہے۔

وقت کی اھمیت

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top