Words influence others and build relationships at work and personality. Language holds massive colossal power to manifest, whether it’s good or bad.
الفاظ سے بڑی طاقت اور کوئی نہیں ہے ۔ لفظ ہی وہ قدیم ترین دواء ہیں جو انسان نے استعمال کی ۔ الفاظ کا صحیح استعمال کیا جائے تو وہ xray کی طرح ہر چیز میں سے گزر سکتے ہیں۔
دنیا کا اوّلین اسلحہ اور پہلا مرہم یقیناً الفاظ ہی ہیں۔ خالی ہاتھوں جنگ الفاظ ہی جتواتے ہیں۔ یہ الفاظ ہی ہیں جس میں چاندنی سی ٹھنڈک، سکون دیتا شبنمی مرہم اور روح تک پھیلتی تصویر ہوتی ہے۔ لفظ کھردرے ہوں تو روح پر دائمی خراشیں ڈال دیتے ہیں اور لفظ شیریں ہوں تو اُن کی حلاوت رگ و جان تک سرشار کر دیتی ہے، لفظ ہی ہوتے ہیں جو گرتوں کو تھام لیتے ہیں، حوصلوں کو خستگی اور دیوارِ ہستی کی شکستگی کو سہارا دیتے ہیں۔ اور بلا شبہہ یہ الفاظ ہی ہوتے ہیں جن کا ڈ سا پانی نہ مانگے، جن کا کاٹا زندگی بھر رُلائے ، اور جن کا زخم کبھی نہیں بھر پائے ۔ الفاظ شولا بھی ہیں شبنم بھی ہیں۔ پیغمبروں رسولوں اور پیر فقیر کے پاس الفاظ کی طاقت ہوتی تھی جو رہتی دنیا تک اُنکے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ہمارے بزرگوں نے ہمیشہ اس بات کی تلقین کی ہے ہے کے ہمیشہ اپنی زبان سے اچھی باتیں نکالو مذاق میں یا غصّے بھی غلط اور گندے لفظوں کے استعمال سے ہمیشہ گریز کرو ۔ غصّے کی حالت میں نلکے ہوئے کلمات ایک انسان کے ظرف کو نمائندگی کرتی ہے ۔ بولے ہوئے لفظ ہمیشہ کے لیے یا تو دروازے بند کر دیتے ہیں اگر سلیقے سے لفظوں کا استعمال کیا گیا ہو تو مستقبل میں برائی اور کھٹاس کی دیواریں گر سکتی ہیں۔
شاعر کے اشعار، موسیقی کے بول میں لفظوں کا ایسا جادو ہوتا ہے کے لوگوں کے دلوں اور دماغ کو سرشار کر دیتا ہے۔
بیمار کی عیادت میں پہونچے رشتےدار کے بولے ہوئے الفاظ ہی تو ہوتے ہیں جس سے ہمت اور حوصلوں کو مضبوطی ملتی ہے جو دوا سے زیادہ اثر رکھتا ہے ۔
ماں باپ، استاد اور بڑوں کے الفاظ ہی تو ہوتے جو بچوں کو اُمید اور کامیابی کا سہرا سجاتے ہیں۔ زندگی جینا سکھاتے ہیں، حالات سے لڑنا سکھاتے ہیں۔
ڈوبتے کو لفظوں کا سہارا ہوتا ہے لفظوں کی پکار ہی تو ہوتی کوئی زور سے چلا کر کہتا ہے ٹھہر میں آتا ہوں۔ پانی کی تیز رفتار کم نہیں ہوتی مگر ڈوبتے کو سہارا مل جاتا ہے حوصلا مل جاتا کوئی راستہ دکھائی دے جاتا ہے۔
الفاظ کا جادو ہی تو ہے تو آج موٹیویشل اسپیکر بن کر کروڑوں اربوں کی آمدنی کر رہے ہیں۔ انکے پاس نہ کوئی دوا ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی تھراپی بس اپنے لفظ کی طاقت سے انسان کے ذہن کو تبدیل کرنے کی مہارت ہوتی ہے جو اثر رکھتی ہی جس لاکھوں لوگوں کو حوصلا شکنی سے نکال کر زندگی کو نئی روشنی اور راہ دکھائی ہے۔ ایک سیلز مین اپنے لفظوں کی کے استعمال سے اپنے سیل کو کئی گنا بڑھا لیتا ہے جسے ہم skill and power of communication کہتے ہیں دراصل یہ یہ لفظوں اور جملوں کی صحیح ادائیگی ہوتی ہے۔ تعلیم ہمیں بولنا تو سیکھا دیتی ہے مگر کہاں کیا بولنا ہے کیسے بولنا ہے یہ نہیں سکھاتی اسے تو سیکھنا ہوتا ہے ۔ اپنے آس پڑوس رشتےدار، قربت داروں پر ایک نظر ڈالیں تو اکثر ٹوٹے بکھرے نظر آتے ہیں جنہیں لفظوں نے اس طرح گھائل کیا ہے کہ مدتیں گزر گئیں آپس میں