خاموش چہرہ، بولتا ہوا معاشرہ

خاموش چہرہ، بولتا ہوا معاشرہ

 

تمہید

زندگی کبھی کبھی ایسے مناظر ہمارے سامنے لے آتی ہے جو چند لمحوں کے ہوتے ہیں، مگر اُن کی گونج برسوں تک دل و دماغ میں باقی رہتی ہے۔ بظاہر وہ ایک معمولی واقعہ محسوس ہوتا ہے، لیکن اگر انسان کے اندر محسوس کرنے والا دل زندہ ہو تو وہی واقعہ ایک پوری فکر، ایک پوری داستان اور ایک پوری کتاب کا عنوان بن جاتا ہے۔

یہ تحریر بھی ایسے ہی ایک لمحے کی یادگار ہے۔

ایک صبح، جمنا کے کنارے، ایک خاموش نوجوان اور اس کی خاموشی سے جنم لینے والے وہ سوالات، جنہوں نے مجھے اپنے معاشرے، اپنی نسل، اپنی ذمہ داریوں اور اپنے مستقبل کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کر دیا۔

یہ کسی ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ شاید ہم سب کی کہانی ہے۔

اگر اس تحریر میں کہیں آپ کو اپنا عکس دکھائی دے، کہیں اپنے بچوں کی فکر محسوس ہو، کہیں اپنے معاشرے کی کمزوریاں نظر آئیں، یا کہیں اصلاح کی کوئی کرن دکھائی دے، تو سمجھ لیجیے کہ اس تحریر کا مقصد پورا ہو گیا۔

یہ باب کسی پر الزام رکھنے کے لیے نہیں، بلکہ سب سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی ایک عاجزانہ کوشش ہے۔ کیونکہ اصلاح ہمیشہ اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ خاندان، معاشرے اور قوم تک پہنچتی ہے۔

صبح کی نرم و شیریں روشنی ابھی پوری طرح زمین پر نہیں اتری تھی۔ فضا میں ہلکی سی ٹھنڈک تھی اور ہوا کے نرم جھونکے دل و دماغ کو تازگی بخش رہے تھے۔ میں روزمرہ کی مصروفیات سے کچھ لمحے چرا کر چہل قدمی کے لیے گھر سے نکل آیا۔ سیر مکمل کرنے کے بعد دل چاہا کہ کچھ دیر اسی پُرسکون ماحول میں بیٹھ کر اپنے خیالات کو ترتیب دوں۔

قریب ہی ایک بڑا سا پتھر دکھائی دیا۔ میں اس پر جا بیٹھا اور خاموشی سے اردگرد کا منظر دیکھنے لگا۔

ہر طرف زندگی رواں دواں تھی۔ مرد و عورتیں تیز قدموں سے چل رہے تھے۔ بعض لوگ دوڑ رہے تھے، گویا وقت ان کا تعاقب کر رہا ہو اور انہیں اپنی منزل تک ہر حال میں پہنچنا ہو۔ ان کے چہروں پر عزم، تازگی اور زندگی سے محبت نمایاں تھی۔ شاید یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو نظم و ضبط، وقت کی پابندی اور صحت مند معمولات کے تابع کر رکھا تھا۔

میں بھی ان سب کے درمیان بیٹھا اپنے ہی خیالات میں گم تھا۔ ماضی کی یادیں، حال کی ضرورتیں اور مستقبل کی بے یقینی، سب ایک ساتھ ذہن پر دستک دے رہی تھیں۔ انسان بظاہر خاموش ہوتا ہے، مگر اس کے اندر کتنے ہی طوفان برپا ہوتے رہتے ہیں۔ اس لمحے میری کیفیت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔

ایک نوجوان کی آمد

اسی دوران ایک نوجوان میری نگاہوں کے سامنے سے گزرا۔ اس کی عمر بائیس یا تئیس برس سے زیادہ نہ ہوگی۔ اس کے ہاتھ میں ایک تھیلا تھا اور چہرے پر ایسی اداسی تھی جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔

میں بے اختیار اسے دیکھنے لگا۔

اس نے تھیلے سے ایک چادر نکالی، خاموشی سے زمین پر بچھائی، پھر ایک بڑی سی نوٹ بک نکال کر اپنے پاس رکھ دی۔ پہلے پہل میرے ذہن میں خیال آیا کہ شاید وہ کسی امتحان کی تیاری کرنے آیا ہے۔ اکثر طلبہ ایسی پُرسکون جگہوں پر مطالعہ کرنے آتے ہیں۔

لیکن اگلے ہی لمحے میرا یہ گمان غلط ثابت ہوا۔

وہ آہستہ سے چادر پر لیٹ گیا اور اس نے اپنے پورے وجود کو اس طرح پھیلا دیا جیسے برسوں بعد کسی تنگ اور گھٹن زدہ قید سے نکل کر کھلی فضا میں سانس لینے کا موقع ملا ہو۔ اس کے چہرے پر گہری تھکن، بے بسی اور خاموش اذیت کے آثار نمایاں تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور روحانی طور پر بھی تھک چکا ہو۔

جمنا کا کنارہ

یہ منظر دہلی کے شاہین باغ اور ابوالفضل انکلیو کے قریب جمنا کے کنارے کا تھا۔

بظاہر یہ علاقہ ہریالی سے آراستہ دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ برسوں کی غفلت اور آلودگی نے اس جگہ کی خوبصورتی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ جگہ جگہ گندگی، کچرا اور تعفن پھیلا ہوا ہے۔ جمنا کا پانی بھی زیادہ تر آلودہ رہتا ہے، اور اس کے کنارے مختلف کیڑے مکوڑے اور آوارہ جانور دکھائی دیتے ہیں۔ بعض اوقات بدبو اس قدر شدید ہوتی ہے کہ چند لمحے رکنا بھی دشوار محسوس ہوتا ہے۔

ایسے ماحول میں اس نوجوان کا اس بے نیازی سے لیٹ جانا میرے لیے حیرت کا باعث تھا۔

وہ اردگرد کی بے ترتیبی سے بے نیاز اپنی ہی دنیا میں گم تھا، گویا اس کے اندر کا شور باہر کی تمام آوازوں سے کہیں زیادہ بلند تھا۔

لوگ گزرتے، ایک نظر اسے دیکھتے اور اپنی راہ لے لیتے۔ شاید ہر شخص کے دل میں کوئی نہ کوئی سوال ضرور پیدا ہوتا ہوگا، مگر اس مصروف دور میں کون ہے جو کسی اجنبی کے دکھ کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے کی ہمت کرے؟

خاموش چہرہ، بولتا ہوا معاشرہ

میں مسلسل اُس نوجوان کو دیکھ رہا تھا۔ وقت گزرتا جا رہا تھا، مگر وہ اسی طرح خاموش لیٹا آسمان کو تکے جا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر نہ کوئی اضطراب تھا، نہ سکون؛ صرف ایک ایسی خاموشی تھی جو اندر کے طوفان کا پتہ دے رہی تھی۔

میرے دل میں بار بار یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اس کے پاس جاؤں، اس سے پوچھوں کہ آخر وہ کس کرب میں مبتلا ہے؟ کون سا دکھ ہے جس نے اس کی جوانی کے چہرے سے مسکراہٹ چھین لی ہے؟ لیکن پھر خیال آیا کہ ہر زخم ایسا نہیں ہوتا جس پر کسی اجنبی کا ہاتھ رکھا جا سکے۔ بعض دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان اپنے ہی سینے میں دفن رکھتا ہے، کیونکہ اسے یقین نہیں رہتا کہ دنیا اس کی بات سمجھے گی بھی یا نہیں۔

لوگ آتے، ایک نظر اسے دیکھتے اور آگے بڑھ جاتے۔ کسی کے پاس وقت نہیں تھا کہ چند لمحے رک کر کسی اجنبی کی خاموشی کو پڑھنے کی کوشش کرے۔ شاید ہم سب اپنی اپنی زندگیوں کے مسائل میں اس قدر الجھ چکے ہیں کہ دوسروں کے دکھ اب ہمیں صرف ایک منظر دکھائی دیتے ہیں، ایک احساس نہیں۔

اسی نوجوان کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہ خیال بار بار ابھر رہا تھا کہ شاید یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ہماری پوری نسل کی خاموش داستان ہے۔ جب کوئی معاشرہ اپنی نوجوان نسل کی فکری، اخلاقی اور ذہنی تربیت سے غفلت برتنے لگے تو ایسے بے شمار چہرے جنم لیتے ہیں جو بظاہر زندہ ہوتے ہیں، مگر اندر سے ٹوٹ چکے ہوتے ہیں۔

آج ہماری نئی نسل ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہی ہے جہاں معلومات کی فراوانی ہے، لیکن رہنمائی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ رابطے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہزاروں دوستوں کی فہرست ہونے کے باوجود انسان تنہائی کا شکار ہے۔ اس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے، مگر اس کے دل میں سکون نہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید ٹیکنالوجی انسان کے لیے ایک بڑی نعمت ہے۔ اس نے علم، تحقیق، رابطے اور ترقی کے بے شمار دروازے کھولے ہیں۔ لیکن یہی ٹیکنالوجی اگر بے مقصد استعمال ہو تو وقت، فکر اور کردار، تینوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج والدین، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں پر پہلے سے کہیں زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نوجوانوں کو صرف تعلیم ہی نہ دیں بلکہ صحیح سمت بھی دکھائیں۔

میں یہ نہیں کہتا کہ تمام والدین، اساتذہ، علماء یا دینی ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے۔ یقیناً بہت سے لوگ پوری دیانت داری کے ساتھ نوجوان نسل کی اصلاح میں مصروف ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ معاشرے میں ایسے چیلنجز پیدا ہو چکے ہیں جن کا مقابلہ صرف روایتی طریقوں سے کرنا آسان نہیں رہا۔ حالات بدل چکے ہیں، ذرائع بدل چکے ہیں اور نوجوانوں کی سوچ بھی پہلے جیسی نہیں رہی۔ اس لیے دعوت، تعلیم اور تربیت کے انداز میں بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق حکمت اور بصیرت پیدا کرنا ضروری ہے۔

ہماری ایک بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ ہم اکثر نوجوانوں کی غلطیوں کو تو دیکھ لیتے ہیں، لیکن ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کم کرتے ہیں۔ ہم انہیں نصیحت تو بہت کرتے ہیں، مگر ان کی بات کم سنتے ہیں۔ حالانکہ بسا اوقات ایک مخلص سامع، ایک طویل نصیحت سے زیادہ فائدہ پہنچا دیتا ہے۔

اس نوجوان کو دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ زبان سے کچھ نہیں کہہ رہا تھا، مگر اس کی خاموشی مسلسل ایک سوال پوچھ رہی تھی:

“کیا اس معاشرے میں کوئی ایسا بھی ہے جو مجھے سن سکے، مجھے سمجھ سکے اور میرے دل کا بوجھ ہلکا کر سکے؟”

یہ سوال صرف اس نوجوان کا نہیں تھا؛ شاید یہ ہماری پوری نسل کا سوال ہے، اور اس کا جواب تلاش کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

امت کا المیہ اور ہماری ذمہ داریاں

اس نوجوان کی خاموشی نے میرے اندر نہ جانے کتنے سوال جگا دیے تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر ہماری نئی نسل اس قدر بے سمت دکھائی دے رہی ہے تو اس کا سبب صرف انفرادی کمزوریاں نہیں، بلکہ وہ اجتماعی ماحول بھی ہے جسے ہم سب نے مل کر تشکیل دیا ہے۔

ہر قوم کی تعمیر صرف اس کے افراد سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے خاندان، تعلیمی ادارے، دینی مراکز، سماجی تنظیمیں اور قیادت مل کر اس کی سمت متعین کرتے ہیں۔ جب ان میں سے کسی ایک حلقے میں کمزوری پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔

آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ علم، ٹیکنالوجی، معیشت اور ذرائع ابلاغ نے انسانی زندگی کو نئی شکل دے دی ہے۔ ایسے دور میں اگر ہم اپنے نوجوانوں کو صرف مسائل بتائیں اور ان کے حل نہ دیں، صرف ماضی کی عظمت سنائیں اور حال کے تقاضوں سے غافل رہیں، تو ہم ان کے ذہنوں کو مطمئن نہیں کر سکیں گے۔

یہ حقیقت ہے کہ امتِ مسلمہ آج دنیا کے مختلف حصوں میں بے شمار آزمائشوں سے گزر رہی ہے۔ کہیں جنگ ہے، کہیں ظلم، کہیں بے دخلی، کہیں معاشی بحران اور کہیں فکری انتشار۔ ان حالات کی خبریں ہر روز ہمارے سامنے آتی ہیں اور حساس دل رکھنے والا کوئی بھی انسان ان سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔

لیکن ایک اور حقیقت بھی ہمارے سامنے ہونی چاہیے کہ کسی قوم کی بقا صرف جذبات سے نہیں ہوتی، بلکہ علم، کردار، نظم، اتحاد اور مسلسل محنت سے ہوتی ہے۔ دعائیں مومن کا ہتھیار ضرور ہیں، مگر دعا کے ساتھ تدبیر، جدوجہد اور ذمہ داری بھی لازم ہے۔

میں جب دنیا کی دوسری قوموں کو دیکھتا ہوں تو ان میں بہت سی ایسی صفات نظر آتی ہیں جن سے سیکھا جا سکتا ہے۔ وقت کی پابندی، اجتماعی نظم، اداروں کا احترام، تحقیق، منصوبہ بندی اور اپنے قومی مفاد کے لیے مسلسل کوشش—یہ وہ خوبیاں ہیں جنہوں نے انہیں مضبوط بنایا ہے۔ اچھی بات جہاں بھی ہو، اسے قبول کرنا کمزوری نہیں بلکہ دانشمندی ہے۔ اسلام بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ حکمت اور خیر کی بات کو اپنایا جائے، خواہ وہ کسی کے پاس ہو۔

اس کے برعکس ہماری ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم اکثر چھوٹے چھوٹے اختلافات کو اتنی اہمیت دے دیتے ہیں کہ بڑے مقاصد پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ مسلک، جماعت، شخصیت یا ذاتی پسند و ناپسند بعض اوقات ہمیں ایک دوسرے سے دور کر دیتی ہے، حالانکہ ہماری مشترکہ ذمہ داریاں کہیں زیادہ بڑی ہیں۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امت میں خیر ختم ہو گئی ہے۔ آج بھی بے شمار والدین، اساتذہ، علماء، سماجی کارکن اور نوجوان خاموشی سے خدمت انجام دے رہے ہیں۔ بہت سی دینی اور فلاحی تنظیمیں اپنے اپنے میدان میں قابلِ قدر خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ ان کوششوں کا اعتراف بھی انصاف کا تقاضا ہے۔

البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے سامنے آنے والے چیلنجز پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ اس لیے اب ہمیں صرف ردِعمل نہیں بلکہ دور اندیشی، منصوبہ بندی اور اجتماعی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

قوموں کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب کوئی معاشرہ اپنے نوجوانوں کی تعلیم، کردار، تحقیق، معیشت اور اخلاقی تربیت کو اپنی اولین ترجیح بنا لیتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت دوبارہ حاصل کر لیتا ہے۔

شاید یہی وہ راستہ ہے جس کی طرف ہمیں دوبارہ لوٹنے کی ضرورت ہے۔

امت کا المیہ اور ہماری ذمہ داریاں

اس نوجوان کی خاموشی نے میرے اندر نہ جانے کتنے سوال جگا دیے تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر ہماری نئی نسل اس قدر بے سمت دکھائی دے رہی ہے تو اس کا سبب صرف انفرادی کمزوریاں نہیں، بلکہ وہ اجتماعی ماحول بھی ہے جسے ہم سب نے مل کر تشکیل دیا ہے۔

ہر قوم کی تعمیر صرف اس کے افراد سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے خاندان، تعلیمی ادارے، دینی مراکز، سماجی تنظیمیں اور قیادت مل کر اس کی سمت متعین کرتے ہیں۔ جب ان میں سے کسی ایک حلقے میں کمزوری پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔

آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ علم، ٹیکنالوجی، معیشت اور ذرائع ابلاغ نے انسانی زندگی کو نئی شکل دے دی ہے۔ ایسے دور میں اگر ہم اپنے نوجوانوں کو صرف مسائل بتائیں اور ان کے حل نہ دیں، صرف ماضی کی عظمت سنائیں اور حال کے تقاضوں سے غافل رہیں، تو ہم ان کے ذہنوں کو مطمئن نہیں کر سکیں گے۔

یہ حقیقت ہے کہ امتِ مسلمہ آج دنیا کے مختلف حصوں میں بے شمار آزمائشوں سے گزر رہی ہے۔ کہیں جنگ ہے، کہیں ظلم، کہیں بے دخلی، کہیں معاشی بحران اور کہیں فکری انتشار۔ ان حالات کی خبریں ہر روز ہمارے سامنے آتی ہیں اور حساس دل رکھنے والا کوئی بھی انسان ان سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔

لیکن ایک اور حقیقت بھی ہمارے سامنے ہونی چاہیے کہ کسی قوم کی بقا صرف جذبات سے نہیں ہوتی، بلکہ علم، کردار، نظم، اتحاد اور مسلسل محنت سے ہوتی ہے۔ دعائیں مومن کا ہتھیار ضرور ہیں، مگر دعا کے ساتھ تدبیر، جدوجہد اور ذمہ داری بھی لازم ہے۔

میں جب دنیا کی دوسری قوموں کو دیکھتا ہوں تو ان میں بہت سی ایسی صفات نظر آتی ہیں جن سے سیکھا جا سکتا ہے۔ وقت کی پابندی، اجتماعی نظم، اداروں کا احترام، تحقیق، منصوبہ بندی اور اپنے قومی مفاد کے لیے مسلسل کوشش—یہ وہ خوبیاں ہیں جنہوں نے انہیں مضبوط بنایا ہے۔ اچھی بات جہاں بھی ہو، اسے قبول کرنا کمزوری نہیں بلکہ دانشمندی ہے۔ اسلام بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ حکمت اور خیر کی بات کو اپنایا جائے، خواہ وہ کسی کے پاس ہو۔

اس کے برعکس ہماری ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم اکثر چھوٹے چھوٹے اختلافات کو اتنی اہمیت دے دیتے ہیں کہ بڑے مقاصد پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ مسلک، جماعت، شخصیت یا ذاتی پسند و ناپسند بعض اوقات ہمیں ایک دوسرے سے دور کر دیتی ہے، حالانکہ ہماری مشترکہ ذمہ داریاں کہیں زیادہ بڑی ہیں۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امت میں خیر ختم ہو گئی ہے۔ آج بھی بے شمار والدین، اساتذہ، علماء، سماجی کارکن اور نوجوان خاموشی سے خدمت انجام دے رہے ہیں۔ بہت سی دینی اور فلاحی تنظیمیں اپنے اپنے میدان میں قابلِ قدر خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ ان کوششوں کا اعتراف بھی انصاف کا تقاضا ہے۔

البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے سامنے آنے والے چیلنجز پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ اس لیے اب ہمیں صرف ردِعمل نہیں بلکہ دور اندیشی، منصوبہ بندی اور اجتماعی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

قوموں کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب کوئی معاشرہ اپنے نوجوانوں کی تعلیم، کردار، تحقیق، معیشت اور اخلاقی تربیت کو اپنی اولین ترجیح بنا لیتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت دوبارہ حاصل کر لیتا ہے۔

شاید یہی وہ راستہ ہے جس کی طرف ہمیں دوبارہ لوٹنے کی ضرورت ہے۔

بقا اُنہی کی ہے جو خود کو بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں

قدرت کا ایک غیر متبدل اصول ہے کہ اس دنیا میں وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو وقت کے ساتھ اپنے آپ کو بہتر بناتی رہتی ہیں۔ جمود، غفلت اور احساسِ کمتری کسی بھی معاشرے کو آہستہ آہستہ اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں، جبکہ علم، کردار، نظم و ضبط اور مسلسل محنت اسے نئی زندگی عطا کرتے ہیں۔

اسی حقیقت کو بعض اہلِ علم “Survival of the Fittest” کے عنوان سے بیان کرتے ہیں۔ اس کا مفہوم صرف جسمانی طاقت نہیں، بلکہ حالات کے مطابق خود کو سنوارنے، علم حاصل کرنے، بہتر منصوبہ بندی کرنے اور اجتماعی قوت پیدا کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں عزت، وقار اور اعتماد کے ساتھ زندگی گزاریں تو ہمیں صرف دوسروں کی کمزوریوں پر گفتگو کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کا آغاز کرنا ہوگا۔

قومیں نعروں سے نہیں بنتیں، کردار سے بنتی ہیں۔

وہ تقریروں سے نہیں، بلکہ عمل سے ترقی کرتی ہیں۔

وہ خواہشوں سے نہیں، بلکہ منصوبہ بندی، تعلیم اور مسلسل محنت سے اپنا مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔

ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے بچوں کو صرف روزگار کے لیے تعلیم دے رہے ہیں، یا انہیں ایک اچھا انسان بھی بنا رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں صرف ڈگری دے رہے ہیں، یا کردار بھی دے رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں صرف کامیابی کا خواب دکھا رہے ہیں، یا خدمتِ خلق کا جذبہ بھی سکھا رہے ہیں؟

یہ سوال ہر والدین، ہر استاد، ہر عالم، ہر سماجی کارکن اور ہر صاحبِ اختیار کے سامنے کھڑا ہے۔

آج ہم میں سے اکثر لوگ قوم کی اصلاح کی خواہش تو رکھتے ہیں، مگر اصلاح کا آغاز اپنے آپ سے نہیں کرتے۔ ہم معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں، مگر اپنے رویّے بدلنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ حالانکہ ہر بڑی تبدیلی کا آغاز ایک فرد سے، ایک خاندان سے اور ایک چھوٹے سے عمل سے ہوتا ہے۔

 کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتیجب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔

یہی خود احتسابی ہر بیدار معاشرے کی پہلی سیڑھی ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اختلاف ہر معاشرے میں ہوتا ہے، لیکن مہذب قومیں اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دیتیں۔ وہ اپنے بڑے مقصد کو سامنے رکھتی ہیں اور چھوٹے اختلافات کو اس پر غالب نہیں آنے دیتیں۔

اگر ہماری توانائیاں ایک دوسرے پر تنقید کرنے، بدگمانی پھیلانے اور معمولی اختلافات میں صرف ہوتی رہیں تو ہم اپنی اصل ذمہ داریوں سے دور ہوتے جائیں گے۔ لیکن اگر یہی توانائی علم، تحقیق، تعلیم، معاشی ترقی، سماجی خدمت اور نوجوانوں کی تربیت پر صرف ہو تو یہی قوم ایک نئی تاریخ بھی رقم کر سکتی ہے۔

میں اُس نوجوان کو یاد کر رہا تھا جو اب بھی خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔

شاید اسے معلوم بھی نہ ہو کہ اس کی خاموشی نے ایک اجنبی کے دل میں کتنے سوال پیدا کر دیے ہیں۔

میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ اگر اس نوجوان کے لیے ایک بہتر معاشرہ، بہتر تعلیمی ماحول، بہتر رہنمائی اور بہتر مواقع میسر ہوتے تو شاید آج اس کے چہرے پر یہ تھکن اور بے بسی نہ ہوتی۔

شاید…

اور یہی “شاید” ہمارے ضمیر کے لیے سب سے بڑا سوال ہے۔

۔

کلمۂ توحید اور ایک نئی تعمیر

ان تمام خیالات کے درمیان اچانک میرے ذہن میں ایک سوال ابھرا۔

آخر ایک اچھا انسان بنتا کیسے ہے؟

کیا صرف علم کافی ہے؟

کیا صرف عبادت کافی ہے؟

کیا صرف جذبات کسی قوم کو زندہ رکھ سکتے ہیں؟

کافی دیر غور کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ایک صالح اور باکردار انسان کی تعمیر کسی ایک چیز سے نہیں ہوتی، بلکہ یہ کئی عناصر کے باہمی ربط سے وجود میں آتی ہے۔

اس کی بنیاد یقیناً ایمان ہے، کیونکہ ایمان ہی انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف، جواب دہی کا احساس اور خیر کی محبت پیدا کرتا ہے۔

لیکن ایمان کو اپنی اصل خوبصورتی اس وقت ملتی ہے جب وہ کردار میں ظاہر ہو۔

اچھا کردار اچھی سوچ کو جنم دیتا ہے۔

اچھی سوچ ایک بیدار اور متوازن ذہن پیدا کرتی ہے۔

صحت مند ذہن ایک مضبوط اور توانا جسم میں بہتر انداز سے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

مضبوط جسم انسان کو مسلسل محنت، خدمت اور جدوجہد کے قابل بناتا ہے۔

لیکن انسان کا کردار صرف اس کی ذات سے نہیں بنتا، اس کا ماحول بھی اسے تشکیل دیتا ہے۔

اچھا ماحول بہتر عادات پیدا کرتا ہے۔

بہتر عادات بہتر معاشرہ تشکیل دیتی ہیں۔

ایک اچھے معاشرے کے لیے مضبوط تعلیم، مضبوط معیشت اور انصاف پر قائم ادارے ضروری ہوتے ہیں۔

جدید اور معیاری تعلیم انسان کو صرف روزگار نہیں دیتی، بلکہ اسے سوچنے، سوال کرنے، تحقیق کرنے اور صحیح فیصلے کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔

مضبوط معیشت قوم کو خود داری عطا کرتی ہے، جبکہ اخلاقی اقدار اسے عزت عطا کرتی ہیں۔

اور ان سب کے اوپر ایک ایسی قوت ہے جس کے بغیر یہ تمام چیزیں ادھوری رہ جاتی ہیں۔

وہ ہے…

عزم۔

وہ عزم جو انسان کو مشکل حالات میں بھی ہار ماننے نہیں دیتا۔

وہ جذبہ جو ناکامی کو کامیابی کی پہلی سیڑھی سمجھتا ہے۔

وہ محنت جو خاموشی سے اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔

اور وہ اخلاص جو ہر عمل کو اللہ تعالیٰ کی رضا سے جوڑ دیتا ہے۔

جب یہ تمام صفات ایک انسان میں جمع ہونے لگتی ہیں تو صرف ایک فرد نہیں بدلتا، بلکہ ایک خاندان بدلتا ہے۔

خاندان سے محلہ بدلتا ہے۔

محلے سے معاشرہ بدلتا ہے۔

اور معاشرے سے پوری قوم کی تقدیر بدلنے لگتی ہے۔

اسی لیے ہمیں اپنی اصلاح کا آغاز دوسروں سے نہیں، اپنے آپ سے کرنا ہوگا۔

ہمیں اپنے گھروں کو علم، اخلاق، محبت اور تربیت کا مرکز بنانا ہوگا۔

ہمیں اپنے بچوں کو صرف کامیاب انسان نہیں بلکہ مفید انسان بنانا ہوگا۔

ہمیں اپنی مساجد کو عبادت کے ساتھ ساتھ علم، کردار، اخوت اور خدمت کا مرکز بھی بنانا ہوگا۔

ہمیں اپنے تعلیمی اداروں کو صرف امتحان پاس کرانے والی جگہ نہیں بلکہ شخصیت سازی کے مراکز بنانا ہوگا۔

اگر ہم یہ سب کر سکے تو شاید آنے والی نسلیں ہم سے یہ شکایت نہیں کریں گی کہ ہم نے انہیں ایک بکھرا ہوا معاشرہ ورثے میں دیا تھا۔

میں انھی خیالات میں گم اٹھا اور واپس چلنے لگا۔

راستے میں ایک مرتبہ پھر میری نگاہ اس نوجوان پر پڑی۔

وہ اب بھی خاموش تھا۔

مگر اس بار مجھے محسوس ہوا کہ خاموش صرف وہ نوجوان نہیں تھا۔

خاموش تو ہم سب تھے…

ہماری بے حسی خاموش تھی۔

ہماری ذمہ داریاں خاموش تھیں۔

ہمارا ضمیر خاموش تھا۔

قومیں ایک دن میں نہیں بنتیں اور نہ ایک دن میں بکھرتی ہیں۔ ان کی تقدیر اُن افراد کے ہاتھوں لکھی جاتی ہے جو خاموشی سے اپنا فرض ادا کرتے رہتے ہیں، خواہ دنیا انہیں پہچانے یا نہ پہچانے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچ کو پہچاننے کی بصیرت، اس پر عمل کرنے کی توفیق، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر معاشرہ چھوڑ جانے کی سعادت عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں دعا کی:

اے اللہ! ہمارے دلوں کو زندہ کر دے، ہماری سوچ کو وسعت عطا فرما، ہمارے کردار کو مضبوط بنا، ہماری نسلوں کی حفاظت فرما، ہمیں علم کے ساتھ عمل، ایمان کے ساتھ اخلاص، اور اتحاد کے ساتھ حکمت نصیب فرما۔ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو صرف حالات کا شکوہ نہیں کرتے بلکہ انہیں بہتر بنانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ آمین۔

Written by: Md. Ejazul Haque Khan
Edited with the assistance of ChatGPT (OpenAI)

یا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top