زندگی، وقت اور انسان کا فہم

انسان اپنی ماضی کی غلطیوں کو اُس وقت نہیں سدھار سکتا جب وقت کا پہیہ اس قدر آگے بڑھ چکا ہو کہ واپسی ناممکن ہو جائے۔ میں اُس عمر کی بات کر رہا ہوں جہاں پہنچ کر زندگی خود تھکنے لگتی ہے، اور انسان اپنے ہی ضمیر کی عدالت میں اپنے اعمال کا حساب دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

تب احساس ہوتا ہے کہ کن راستوں پر بھٹک گئے، کہاں ٹھوکر کھائی، کون سے فیصلے غلط ثابت ہوئے، اور آج کی محرومیاں دراصل کل کی لغزشوں کا نتیجہ ہیں۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ:

“اب پچھتائے ہوت کیا، جب چڑیا چگ گئی کھیت۔”

وقت ایک ایسا بے رحم استاد ہے جو سبق پہلے دیتا ہے، مگر اس کی قیمت بعد میں وصول کرتا ہے۔

ایسے میں انسان اپنی اولاد سے امیدیں وابستہ کر لیتا ہے، لیکن خوش نصیب وہی والدین ہوتے ہیں جن کی امیدیں وفا میں ڈھل جائیں۔ سب اولادیں نافرمان نہیں ہوتیں، مگر ہر شخص اتنا خوش قسمت بھی نہیں ہوتا کہ اپنی ادھوری زندگی کی تکمیل اپنی اولاد میں دیکھ سکے۔

انسان کی اصل طاقت دوسروں پر نہیں بلکہ اپنے رب پر یقین اور اپنی ذات پر اعتماد میں پوشیدہ ہے۔ یہ سمجھ لینا کہ کوئی دوسرا، خواہ اپنی اولاد ہی کیوں نہ ہو، ہمیشہ ہمارا سہارا بنے گا، ایک خطرناک خوش فہمی ہے۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں، خواہشات اور ذمہ داریوں میں اس قدر الجھا ہوا ہے کہ دوسروں کے دکھ اکثر اُس کی نگاہ سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔

اگر زندگی نے آپ کے راستے میں گرہیں ڈال دی ہیں تو اُنہیں کھولنے کا ہنر بھی آپ ہی کو سیکھنا ہوگا۔ اپنے اندر ہمت پیدا کیجیے، علم حاصل کیجیے، وسائل پیدا کیجیے اور خود کو مضبوط بنائیے۔ اگر ایسا نہ کر سکے تو اُن سخت حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیے جن کی نہ کسی نے خبر دی اور نہ کسی نے پرواہ کی۔

اگر انسان وقت رہتے ان حقیقتوں کو سمجھ لے تو وہ گمراہی، بربادی اور پچھتاوے سے بڑی حد تک بچ سکتا ہے، بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور رضا اس کے شاملِ حال ہو۔

جب بھی میں رشتوں کو دیکھتا ہوں تو اُن میں محبت، خلوص اور قربت کی دھندلی تصویریں دکھائی دیتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر چہرے کے پیچھے ایک اور چہرہ چھپا ہوا ہے۔ دنیا کے بیشتر رشتے مطلب کے نازک دھاگے سے بندھے ہوتے ہیں۔ جب تک مفاد باقی رہتا ہے، تعلق بھی قائم رہتا ہے، اور جب مفاد ختم ہو جاتا ہے تو وہی رشتے خزاں کے پتوں کی مانند بکھر جاتے ہیں۔

اگر آپ اس بے بسی سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو خود کو سنبھالنا سیکھ لیجیے۔ کسی سے یہ توقع نہ رکھیے کہ وہ آپ کو ضرور سمجھے گا، آپ کی تعریف کرے گا یا آپ کے جذبات کی قدر کرے گا۔ آپ کسی کے سرٹیفیکیٹ کے محتاج نہیں ہیں۔

اپنے ارادوں کو مضبوط بنائیے، تنہائی کو اپنا استاد بنائیے، خاموشی کو اپنی طاقت بنائیے، اور ردِعمل دینے میں جلد بازی سے بچیے۔ بعض اوقات خاموشی وہ جواب ہوتی ہے جو ہزاروں الفاظ بھی نہیں دے سکتے۔

یاد رکھیے!
جو انسان اپنے رب پر بھروسہ کرنا سیکھ لیتا ہے، اپنی اصلاح میں مصروف رہتا ہے اور وقت کی قدر کرتا ہے، وہ زندگی کی بڑی سے بڑی آزمائش میں بھی اپنا وقار برقرار رکھتا ہے۔ یہی شعور انسان کو مضبوط بناتا ہے، اور یہی مضبوطی اسے دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top