رشتوں کی اہمیت اور ضرورت
رشتے…
اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ وہ نعمت ہیں جن کے بغیر زندگی کی رونق ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ انسان دنیا کی ہر دولت حاصل کر لے، مگر اگر اس کے پاس محبت کرنے والے رشتے نہ ہوں تو اس کی زندگی ایک ویران مکان کی مانند ہو جاتی ہے، جہاں ہر چیز موجود ہوتی ہے مگر سکون نہیں ہوتا۔
رشتے خون سے بنتے ہیں، محبت سے پروان چڑھتے ہیں، اعتماد سے مضبوط ہوتے ہیں اور احترام سے ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔ یہ محض نام یا تعلق نہیں بلکہ وہ جذباتی بندھن ہیں جو انسان کو جینے کا حوصلہ دیتے ہیں، اس کے دکھ بانٹتے ہیں اور خوشیوں کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج انسان ترقی تو کر گیا ہے، مگر رشتوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ گھروں کی دیواریں بلند ہو گئی ہیں لیکن دلوں کے فاصلے بھی بڑھ گئے ہیں۔ ایک ہی خاندان کے لوگ برسوں ایک دوسرے سے نہیں ملتے، حالانکہ کبھی یہی رشتے زندگی کی سب سے بڑی طاقت ہوا کرتے تھے۔
رشتوں کی کوئی میعاد مقرر نہیں ہوتی، نہ ہی ان کی کوئی ایسی حد ہوتی ہے کہ جس کے بعد وہ خود بخود ختم ہو جائیں۔ رشتے وقت کے گزرنے سے نہیں مرتے، بلکہ ہماری انا، خود غرضی، بدگمانی، بخل، حسد، دکھاوے، بے صبری اور معاف نہ کرنے کی عادت انہیں آہستہ آہستہ کمزور کر دیتی ہے۔ جب انسان اپنی انا کو رشتوں سے زیادہ اہمیت دینے لگتا ہے تو محبت کے روشن چراغ ایک ایک کرکے بجھنے لگتے ہیں، اور آخرکار وہ رشتہ بھی خاموشی سے دم توڑ دیتا ہے جو کبھی دلوں کی دھڑکن ہوا کرتا تھا۔
انسان ماں باپ کے دنیا سے چلے جانے پر یتیم ہوتا ہے، مگر جب اپنے ہی زندہ ہوتے ہوئے دلوں میں دوریاں آ جائیں تو انسان اندر سے بھی یتیم ہو جاتا ہے۔ یہ وہ تنہائی ہے جس کا علاج نہ دولت کر سکتی ہے، نہ شہرت اور نہ ہی دنیا کی کوئی آسائش۔
رشتے ایک سرسبز باغ کی مانند ہوتے ہیں۔ اس باغ میں والدین سایہ دار درخت ہیں، دادا دادی اور نانا نانی دعاؤں کی ٹھنڈی چھاؤں ہیں، بہن بھائی خوشبو بکھیرتے پھول ہیں، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی اور دیگر عزیز مضبوط شاخوں کی طرح ہیں، جبکہ دوست اور مخلص ہمسائے ایسے پھل ہیں جو زندگی کو مزید شیریں بنا دیتے ہیں۔ اگر اس باغ کی دیکھ بھال نہ کی جائے تو سرسبز شاخیں بھی سوکھ جاتی ہیں اور پھول بھی مرجھا جاتے ہیں۔
رشتے خود بخود مضبوط نہیں رہتے، انہیں وقت، توجہ، محبت، قربانی اور برداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے ایک مالی روزانہ اپنے باغ کی حفاظت کرتا ہے، اسی طرح ہمیں بھی اپنے رشتوں کی آبیاری کرنی چاہیے۔ کبھی ایک مسکراہٹ، کبھی ایک معافی، کبھی ایک ملاقات اور کبھی صرف خیریت دریافت کر لینا بھی محبت کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ ہر اختلاف رشتے کا خاتمہ بن جائے۔ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں اختلاف بھی ہوتے ہیں، مگر اصل خوبصورتی یہ ہے کہ اختلاف دلوں کی دوری میں تبدیل نہ ہو۔ معاف کر دینا ہمیشہ کمزوری نہیں بلکہ مضبوط کردار کی علامت ہے۔
زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہر رشتہ ہماری توقعات کے مطابق نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ ہماری محبت کی قدر کرتے ہیں اور کچھ اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر انسان کو اپنی عزتِ نفس کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ محبت ضرور کیجیے، مگر اپنی خودداری کو قربان کیے بغیر۔
بعض رشتے ہمیں خوشیاں دیتے ہیں اور بعض ہمیں صبر، برداشت اور زندگی کے بڑے سبق سکھاتے ہیں۔ اس لیے ہر تعلق کو ایک نعمت اور ہر آزمائش کو ایک سبق سمجھ کر قبول کرنا چاہیے۔
اگر آپ کی زندگی میں ایسے لوگ موجود ہیں جو آپ کی خاموشی کو بھی سمجھ لیتے ہیں، آپ کی آنکھوں میں چھپے ہوئے درد کو پڑھ لیتے ہیں اور بغیر کسی مطلب کے آپ کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں تو انہیں کبھی اپنے سے دور نہ ہونے دیجیے۔ ایسے مخلص لوگ بار بار نہیں ملتے۔
اگر کبھی زندگی میں تنہائی نصیب ہو جائے اور کوئی اپنا ساتھ نہ دے تو مایوس نہ ہوں۔ اپنے رب سے تعلق مضبوط کیجیے، کیونکہ وہ رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا۔ پھر اپنی ذات سے بھی محبت کرنا سیکھ لیجیے، کیونکہ انسان کا سب سے مضبوط رشتہ اپنے رب کے بعد اپنی ذات کے ساتھ ہوتا ہے۔
رشتوں کو مضبوط بنانے کے چند اصول
– ہر رشتے کو عزت دیں۔
– محبت کا اظہار کرنے میں بخل نہ کریں۔
– معاف کرنا اور درگزر کرنا سیکھیں۔
– دوسروں کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں۔
– خوشی اور غم دونوں میں شریک ہوں۔
– وقتاً فوقتاً ملاقات کا اہتمام کریں۔
– اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں۔
– کمزور اور ضرورت مند رشتہ داروں کا سہارا بنیں۔
– خاندان کی ترقی کے لیے مل کر سوچیں اور تعاون کریں۔
– ہمیشہ انصاف اور سچائی کا ساتھ دیں۔
آخر میں صرف اتنا یاد رکھیے کہ رشتے زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ دولت، شہرت اور کامیابیاں انسان کو وقتی خوشی دے سکتی ہیں، مگر دل کا سکون صرف مخلص رشتوں سے ملتا ہے۔
رشتے ایسے ہونے چاہییں کہ ایک کی خوشی سب کی خوشی بن جائے، ایک کا دکھ سب کا دکھ بن جائے، ایک کمزور پڑے تو سب اس کا سہارا بن جائیں۔
محبت، احترام، ایثار اور دعا—یہی وہ چار ستون ہیں جن پر ہر مضبوط رشتہ قائم رہتا ہے